اتحاد خوش آئند، اب لندن والے کہاں جائیں گے

News Stories

اتحاد   خوش آئند، اب لندن والے کہاں جائیں گے

(ڈاکٹر شاہد مسعود)

ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کا سیاسی اتحاد اس لحاظ سے اچھا اقدام ہے کہ کراچی معاشی حب ہے اس کا کریڈٹ ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کو جاتا ہےکہ اتنی کشیدگی کے باوجود دونوں جماعتیں ایک دوسرے کیخلاف تشدد پر نہیں اتریں، ایک دوسرے کو گولیاں نہیں ماریں۔ ایک دوسرے کے بندے نہیں اٹھائے مار پیٹ نہیں ہوئی۔ کراچی میں امن و امان برقرار رکھا لیکن کراچی میں مجموعی امن کا کریڈٹ سکیورٹی فورسز کو ہی جائے گا۔ میڈیا کو اس پیش رفت کو سراہنا چاہئیے ان کا متحد ہونا، تشدد سے خود کو الگ کرنا، کراچی کی بات کرنا یہ سب بہت اچھا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ جو احتساب ہو گا وہ بلاامتیاز ہو گا۔ احتساب کسی ایک جماعت یا کسی ایک گروہ کا نہیں ہو گا، وہ سب کا ہو گا۔ اگر کسی کا خیال ہے کہ وہ کسی دوسری پارٹی میں جا کر بچ جائے گا تو آنے والے دنوں میں ایسا نہیں ہو گا۔

ان دونوں جماعتوں میں ایسی شخصیات موجود ہیں جن کا بانی متحدہ سے اب بھی رابطہ ہے۔ اس صورتحال میں دونوں پر دباؤ تھا کہ یہ اکٹھے ہو جائیں، اپنا نام تبدیل کریں۔ فاروق ستار کی طرف سے ایک مزاحمت تھی، وہ اسلام آباد اور دیگر جگہوں پر بھی گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کا نام تبدیل نہیں کریں گے۔ کامران ٹیسوری کے پارٹی میں آنے سے پارٹی کے اندر مزید بحران پیدا ہوا۔ یہ بحران اس لئے پیدا ہوا تھا کہ فاروق ستار اس بات کا جواب نہ دے سکے کہ انہوں نے شاہد خاقان عباسی کو غیرمشروط طور پر ووٹ کیوں ڈالا۔ ان کی باہمی ملاقاتیں ہوئیں تو مزید تنازع پیدا ہوا کیونکہ وہاں گورنر سندھ محمد زبیر کے صاحبزادے کا نام آیا۔ یہ میٹنگ اسلام آباد میں ہوئی تھی۔ اس میں کامران ٹیسوری، فاروق ستار اور گورنر سندھ کے صاحبزادے شریک تھے۔ اس میں یہ طے ہوا کہ کراچی کیلئے 25 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان ہو گا۔ پھر ووٹ ڈالے گئے۔ اس پر ایم کیو ایم پاکستان کا آپس میں جھگڑا شروع ہوا۔ اختلافات تو پہلے بھی تھے، دوبارہ یہ سلسلہ شروع ہوا تو مزید گہرے ہو گئے۔ ارشد ووہرہ کی بھی اس بات پر ناراضگی تھی کیونکہ وہ ڈپٹی میئر تھے۔ ان کا کوئی نظریاتی اختلاف نہیں تھا، ان کا اعتراض تھا کہ مجھے کراچی پیکیج میں اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟ عامر خان ان سے لاتعلق ہو گئے ہیں۔ علی رضا عابدی بھی چلے گئے ہیں۔ درمیان میں کچھ لوگ ہیں جو ایم کیو ایم میں بھی نہیں رہنا چاہتے اور نہ ہی موجودہ حالات میں پی ایس پی میں جانا چاہتے ہیں، وہ عارضی طور پر پیپلزپارٹی میں چلے جائیں گے۔ ’’عارضی‘‘ کا لفظ بڑا محتاط ہو کر استعمال کر رہا ہوں۔ ان میں خوش بخت شجاعت، سلمان مجاہد بلوچ اور دیگر شامل ہیں لیکن یہ بھی اتحاد بنے گا اور دونوں مل کر اس کا جو بھی نام رکھیں گے۔

ایک بات ذہن میں رکھیں کہ یہ اس وقت ہو رہا ہے جبکہ حماد صدیقی آنے والے ہیں۔ حماد صدیقی پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی حراست میں آ چکے ہیں۔ وہ اگلے ہفتے یا چند دنوں میں پاکستان آ جائیں گے۔ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ لگنے کے واقعہ اور سانحہ 12 مئی کے وقت پی ایس پی تھی نہ ایم کیو ایم پاکستان یا ایم کیو ایم لندن تھی۔ حماد صدیقی 12 مئی کے واقعے یا بلدیہ ٹاؤن کے سانحے کے حوالے سے جو نام لے رہے ہیں، اس میں دونوں طرف کے لوگوں کے نام شامل ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ کھالوں کا پیسہ لندن نہیں گیا کیوںکہ ایم کیو ایم کو اس سال کھالیں نہیں ملی۔ ایم کیو ایم لندن کھالوں کے معاملے پر بہت حساس ہے۔ اس سال عید پر ان کی طرف سے کوئی بات ہی نہیں ہوئی، نہ پچھلے سال بات کی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کو پاکستان سے مستقل پیسہ جا رہا ہے۔ یہ وہ بات ہے جو سرفراز مرچنٹ  نے کہی ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ سرفراز مرچنٹ وعدہ معاف گواہ بن کر ریاست کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ منی لانڈرنگ کے حوالے سے سرفراز مرچنٹ کی تحقیقات میں انہوں نے کئی لوگوں کا نام لیا ہے کہ وہ لندن پیسہ بھیج رہے ہیں۔ اس سارے ماحول میں جب حماد صدیقی واپس آئیں گے اور بلدیہ ٹاؤن کے سانحہ میں ملوث لوگوں کے نام لیں گے تو پھر دونوں طرف سے جرائم پیشہ افراد اور منی لانڈرنگ میں ملوث لوگ اٹھائے جائیں گے۔ یہ مساوات قائم ہو گی کہ ہاتھ ایک طرف نہیں دونوں طرف ڈالا گیا ہے۔

اتحاد خوش آئند

 

Share This:

Be the first to comment on "اتحاد خوش آئند، اب لندن والے کہاں جائیں گے"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*