عباسی کا عمران سے بیک ڈور رابطہ

عباسی کا عمران سے بیک ڈور رابطہ

(ڈاکٹر شاہد مسعود)

اسلام آباد میں ہر آنے والے دن کے ساتھ بے یقینی بڑھتی جا رہی ہے۔ سسٹم کو بریک لگ چکی ہے۔ سرکار مفلوج ہو چکی ہے۔ دفاتر میں اہم فائلیں ایک سے دوسری میز پر بھی نہیں پہنچتیں۔ حکومت ہے تو کہاں ہے؟ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ شاہد خاقان عباسی اور میاں نوازشریف کسی طور پر ایک پیج پر نہیں۔ رہی سہی کسر قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے نکال دی کہ اگر منگل کو نااہل شخص کے پارٹی سربراہ بننے کیخلاف بل نہ پیش کیا گیا تو اجتماعی استعفےدیدیں گے۔ شاہد خاقان عباسی پہلے ہی پریشان بیٹھے تھے کیونکہ بہت بڑی تعداد میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی میں پہنچے ہی نہیں تھے۔ وزیراعظم نے اپنے قریبی حلقوں میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ’’حکومت میں نہیں کر رہا‘‘ کیونکہ کوئی بھی وزیر ان کو جوابدہ نہیں ہے۔ انہوں نے اسحاق ڈار کو ہٹانے کی کوشش کی تو نوازشریف نے منع کر دیا۔

تمام وزرا بشمول پرنسپل سیکرٹری اور مشیران نوازشریف کو رپورٹ کر رہے ہیں اور ان سے ہی ہدایات لے رہے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم ہاؤس کے بجائے اسلام آباد میں ذاتی رہائش گاہ پر قیام کیا۔ لندن میں ٹیوب میں سفر کیا۔ یہ ایک طرح سے پروٹوکول کیخلاف پیغام تھا لہذا اسے بہت زیادہ پسندنہیں کیا گیا۔ اسی طرح کی غلط فہمیاں پھیلائی گئیں جیسی کسی زمانے میں جاویدہاشمی کے متعلق تھیں کہ دیکھیں جی، یہ ہیرو بن رہا ہے۔ اب میاں نوازشریف، شاہد خاقان عباسی پر بہت زیادہ اعتماد نہیں کر رہے۔ شاہد خاقان عباسی بھی اپنے آپ کو فاصلے پر کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے قریبی دوستوں کو کہہ دیا کہ اگر میرے خلاف آنے والے دنوں میں کسی بھی قسم کا مقدمہ کھلا تو اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دے دوں گا۔ یعنی ایل این جی یا کوئی اور مقدمہ۔ اس حوالے سے ان کا کوئی بیک ڈور رابطہ عمران خان سے ہوا ہے، جس کے بعد عمران خان کا یہ بیان سامنے آیا کہ آئندہ ماہ شاید حکومت نہ رہے۔

اس پوری غیریقینی صورتحال میں قبل از وقت الیکشن کی بات بھی چل رہی ہے۔ لیکن کہا یہ جا رہا ہے کہ قبل از وقت الیکشن ہو گا یا نہیں ہو گا، اس پر سیاستدان پریشان ہیں۔ اعلان تو ضیاالحق نے بھی کر دیا تھا۔ ڈر اس بات کا ہے کہ کوئی پٹیشن نہ آ جائے، مردم شماری چیلنج نہ ہو جائے۔ سب کو معلوم ہے کہ سندھ میں بڑا آپریشن شروع ہونے والا ہے۔ میگا کرپشن کیسز کھل رہے ہیں پھر اس کے بعد دوسرا مسئلہ کھڑا ہو رہا ہے۔ ایک تو حدیبیہ کیس میں نیب نے اسحاق ڈار کیخلاف خود کارروائی کر لی۔ نیب اگر اسحاق ڈار کیخلاف کارروائی کرسکتا ہے تو براہِ راست کسی اور کیخلاف بھی کر سکتا ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے جس پر لوگوں نے زیادہ دھیان نہیں دیا۔

اب نیب بھی متحرک ہے، باقر نجفی رپورٹ ہے، پاناما کے باقی کیسز لگ رہے ہیں۔ مجموعی طور پر باہر کے 324 اقاموں کی فہرست آئی ہے جس میں اکثریت سندھ سے ہے۔ سندھ حکومت تو چلتی ہی دبئی سےتھی۔ وزٹ ویزا لے کر جاتے تھے، ساری حکومت اقاموں پر تھی۔ زرداری صاحب نے بلا لیا مراد علی شاہ چلے گئے، ان کو کیا پتہ تھا کہ اقاموں کا رولا پڑنا ہے۔ وہ تو سارے اقامے لے کر بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ خبروں کا موسم ہے اور بہت بڑی خبریں آنیوالی ہیں۔

Share This:

Be the first to comment on "عباسی کا عمران سے بیک ڈور رابطہ"

Leave a comment

Your email address will not be published.


*