تین سو(300) بچوں کے ویڈیو سکینڈل دبانے میں راناثناء ملوث

تین سو(300) بچوں کے ویڈیو سکینڈل دبانے میں رانا ثناء ملوث

(ڈاکٹر شاہد مسعود)

 Image result for rana sana

قصور میں 2015ء میں تین سو بچوں کے ساتھ ویڈیو سکینڈل کے واقعات ہوئے اور اس وقت صوبائی وزیروانون راناثناء یہ بیان دیتا رہا کہ یہ تو زمینوں کے جھگڑے ہیں۔ مجھے اس بات کا شدید افسوس ہے کہ میں اس وقت کراچی آپریشن  کے حوالے سے پروگرام کرنے میں مصروف تھا۔ ان تین سو بچوں کے قتل کے مقدمات کو دبانے میں راناثناء ملوث ہے۔ جو لوگ مجھے مہرہ کہہ رہے ہیں وہ زینب قتل کیس اور اس طرح کے دیگر کیسز میں پولیس میں جا کر ایف آئی آر تبدیل کراتے رہے۔

عدالت میں ایک چینل کے مالک دوسرے چینل کے مالک سے کہہ رہے تھے کہ ایک سین تشکیل دیتے ہیں کہ عدالت میں جذباتی ہو کر روتے ہوئے میں   ڈاکٹر شاہد مسعود کو  دو تھپڑ مار دوں گا۔ دوسرے چینل کے مالک نے کہا اگر جواب میں شاہد مسعود نے تھپڑ مار دیا تو اس نے کہا میں ہر روز ایک گھنٹہ ورزش کرتا ہوں ڈاکٹرشاہد جواب نہیں دےپائے گا۔

انہوں نے پوری کوشش کی کہ میں معافی مانگوں کہ خبر غلط تھی۔ جے آئی ٹی میں مجھے سو مرتبہ بلائیں میں سر کے بل جاؤں گا۔ ایف آئی نے ایک الگ ٹیم بنائی ہے جو  صرف بچوں کیساتھ ہونے والے واقعات کی تحقیقات کرے گی۔ اس کے علاوہ پی ٹی اے نے بھی ایک الگ ونگ بنایا ہے جو بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی نشاندہی کرے گا۔ اب ادارے کھڑے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے جھنگ سےجو ساٹھ جی بی ڈیٹا کیساتھ گینگ پکڑا ہے، وہ چار ملکوں کیساتھ کام کر رہا تھا۔ پکڑا جانے والا ایک شخص الیکٹریکل انجینئر تھا۔ کینیڈا سے اس گینگ کیخلاف رپورٹ ہوئی جسے بدمعاشیہ بچا رہا تھا۔ کالج کے سٹوڈنٹس نے مجھ سے پوچھا اگر عدالت نے آپ کو سزا دےدی تو  میں نے کہا کہ عدالت جو بھی سزا دے گی میں سر جھکا کر قبول کروں گا۔

نادرا کے چیف نے بتایا کہ ایک سافٹ ویئر اپریل تک تیار ہو جائے گا تاکہ اگلے الیکشن میں اوورسیز پاکستانی بھی ووٹنگ میں حصہ لے سکیں۔ میں ایک بات بتاتا چلوں کہ افغانستان میں بہت جلد پاکستان امن قائم کر کے دکھائے گا۔ انڈیا کیساتھ معاملات بدمعاشیہ نے خراب کیے ہیں۔

میرے اوپر بننے والی جےآئی ٹی رانا ثناء کو طلب کر کے پوچھے کہ ڈاکٹر کے پیچھے کون لوگ ہیں، سارا مسئلہ حل  ہو جائے گا۔ سینیئر صحافی ارشد شریف نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا کہ راناثناء نے تو سارا کیس ہی حل کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود صرف ایک مہرہ ہے اس کے پیچھے دیگر قوتیں ہیں جو ملک میں انتشار چاہتی ہیں۔ جےآئی ٹی نے بھی ڈاکٹر شاہد مسعود کے معاملے کی تہہ تک پہنچنا ہے تو صوبائی وزیر کے اس بیان پر اسے فوراً حرکت میں آنا چاہئیے اور اسے طلب کر کے پوچھنا چاہئیے کہ کون سی قوتیں ڈاکٹر شاہد کو اکسا رہی ہیں سارا کیس حل ہو جائے گا۔۔۔

Share This:

1 Comment on "تین سو(300) بچوں کے ویڈیو سکینڈل دبانے میں راناثناء ملوث"

  1. 1. Zainab murder seems to be alarming crime of child pornography by gang action.
    2. Criminal Imran, 23 yrs, may be got killed.
    3. Law maker(s) of PML-N is/are involved in this crime of child sexual abuse in Kasur.
    4. Rana Sanaullah has been proved guilty by hiding the child abuse scandal of Kasur.
    5. CM Shahbaz Sharif, and concerned Police officers seem to be guilty in Kasur incidents of child abuse during last few years.

Leave a comment

Your email address will not be published.


*